وقت کی قیمتِ زر اور ربا النسیئہ کی اصل حقیقت

Illustration showing the time value of money with clocks, hourglasses, stacked coins, rising interest graph, and chained book symbolizing Riba al-Nasi’ah in Islamic finance

یہ مضمون وقت کی قیمتِ زر کے تصور کا اسلامی تناظر میں تجزیہ کرتا ہے، جس میں ربا النسیئہ، اسلامی مالیات، بیعتین فی بیع اور جدید بینکاری کے نظام کو واضح کیا گیا ہے۔ اسلام کیوں وقت کو منافع کا ذریعہ نہیں مانتا، اس کی فقہی اور معاشی بنیادیں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔

وقت کی قیمتِ زر — اصل مسئلہ کیا ہے؟

جدید مالیاتی نظام کی بنیاد ایک بنیادی تصور پر کھڑی ہے جسے ٹائم ویلیو آف منی کہا جاتا ہے، یعنی وقت کی قیمتِ زر کا یہ خیال کہ آج کا پیسہ کل کے پیسے سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اگر کوئی شخص آج کسی کو رقم دیتا ہے تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کل اس سے زیادہ واپس لے، صرف اس لیے کہ وقت گزر گیا۔ یہی سوچ سود، قرض، بینکاری اور پورے سرمایہ دارانہ نظام کو چلاتی ہے۔

اسلام اس بنیاد کو ہی رد کرتا ہے۔ اسلام دولت، تجارت یا منافع کے خلاف نہیں، بلکہ وہ اس تصور کو غلط سمجھتا ہے کہ وقت بذاتِ خود کمائی کا ذریعہ بن جائے۔ اسلامی معیشت میں پیسہ تب ہی جائز طور پر بڑھ سکتا ہے جب وہ کسی حقیقی معاشی سرگرمی میں شامل ہو، جیسے تجارت، محنت، ملکیت یا کسی ایسے کاروبار میں لگایا جائے جس میں نقصان کا امکان بھی موجود ہو۔ اگر پیسہ صرف وقت گزرنے کی بنیاد پر بڑھ جائے، جبکہ نہ کوئی محنت ہو، نہ کوئی کاروباری سرگرمی اور نہ ہی کوئی خطرہ قبول کیا گیا ہو، تو اسلام اسے ناجائز قرار دیتا ہے۔

اسی وجہ سے ربا دراصل منافع کی مخالفت نہیں بلکہ وقت کے ذریعے منافع کمانے کی مخالفت ہے، یعنی وقت کی قیمتِ زر کو بطور اصول تسلیم کرنے کی مخالفت۔ جب کسی شخص کا پیسہ محض اس لیے بڑھ جائے کہ اس نے انتظار کیا، تو ایک فریق بغیر کسی محنت اور بغیر کسی خطرے کے فائدہ اٹھاتا ہے، جبکہ دوسرا فریق بغیر کسی اضافی فائدے کے زیادہ رقم ادا کرتا ہے۔ یہی وہ بنیادی ناانصافی ہے جسے اسلام ختم کرنا چاہتا ہے۔

جدید بینکاری میں وقت کو ایک ایسی چیز بنا دیا گیا ہے جو خود بخود آمدن پیدا کرتی ہے۔ بینک پیسہ دیتے ہیں اور زیادہ اس لیے وصول کرتے ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ انتظار کیا۔ وہ نہ کسی کاروبار کے نقصان میں شریک ہوتے ہیں اور نہ کسی چیز کے مالک بنتے ہیں، پھر بھی انہیں یقینی نفع ملتا ہے۔ اسلام اس نظام کو ظلم سمجھتا ہے، کیونکہ یہاں دولت کسی حقیقی معاشی قدر پیدا کیے بغیر بڑھتی ہے اور معاشرے میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔

اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کسی معاہدے کو “اسلامی” کہا گیا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس میں وقت کو بیچا جا رہا ہے یا نہیں، یعنی آیا وقت کی قیمتِ زر کو تسلیم کیا گیا ہے یا نہیں۔ جب یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے تو سود، اسلامی بینکاری اور جدید مالیاتی نظام سب اپنی اصل حقیقت کے ساتھ سامنے آ جاتے ہیں۔

پیسہ، وقت اور ربا کی اصل

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پیسہ کاغذ یا برقی اندراجات نہیں تھا، بلکہ سونا اور چاندی تھا۔ سونے کو دینار اور چاندی کو درہم کہا جاتا تھا، اور یہ دونوں حقیقی اشیاء تھیں جن کی اپنی اندرونی قدر تھی۔ جب کوئی شخص کسی سے قرض لیتا تھا تو وہ درحقیقت سونا یا چاندی لیتا تھا، اور جب وہ واپس کرتا تھا تو وہ بھی سونا یا چاندی ہی لوٹاتا تھا۔ اگر اس سے زیادہ واپس کرنے کی شرط لگائی جاتی، تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اسے صرف وقت گزرنے کی وجہ سے زیادہ دینا پڑ رہا ہے۔

اسلام نے اسی عمل کو ربا النسیئہ کہا۔ اس لفظ کا مطلب ہی ہے “تاخیر کی وجہ سے اضافہ”۔ فقہی اعتبار سے اس کی اصل وجہ کو الأجل مع الزيادة کہا جاتا ہے، یعنی ایسا اضافہ جو صرف وقت کے گزرنے سے پیدا ہو۔ اسلام میں وقت کوئی ایسی چیز نہیں جسے خریدا یا بیچا جا سکے۔ وقت صرف وہ فضا ہے جس کے اندر انسان محنت کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور قدر پیدا کرتا ہے۔ جب وقت کو قیمت بنا دیا جائے تو لین دین میں ناانصافی داخل ہو جاتی ہے۔

اسی اصول کو ایک اور فقہی قاعدہ واضح کرتا ہے جسے الخراج بالضمان کہا جاتا ہے، یعنی نفع اسی کو مل سکتا ہے جو نقصان کا خطرہ برداشت کرے۔ قرض دینے والا شخص نہ بازار کے اتار چڑھاؤ کا خطرہ اٹھاتا ہے، نہ کسی کاروبار کے نقصان میں شریک ہوتا ہے اور نہ کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔ پھر بھی سود کے ذریعے اسے یقینی نفع ملتا ہے۔ اسلام اس کو اس لیے رد کرتا ہے کہ یہاں فائدہ ذمہ داری سے جدا کر دیا گیا ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ معاہدہ کس نام سے کیا گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی نے واقعی کوئی معاشی خطرہ اٹھایا ہے یا نہیں۔ جب پیسہ محض انتظار کے بدلے بڑھتا ہے تو یہ ربا النسیئہ ہی ہوتا ہے، چاہے اسے کسی بھی اصطلاح میں چھپا دیا جائے۔ اس طرح وقت کو کمائی کا ذریعہ بنا دینا اسلامی عدل کے خلاف ہے، کیونکہ دولت اس صورت میں بغیر کسی حقیقی معاشی کردار کے بڑھتی ہے۔

وقت کی قیمتِ زر: وقت سے نفع کمانے کی ممانعت

اسلام نے صرف قرض پر سود کو ہی حرام نہیں کیا بلکہ خود پیسے کے باہمی تبادلے کو بھی سخت اصولوں کے تحت منظم کیا، تاکہ وقت کی قیمتِ زر کسی بھی شکل میں مالی لین دین کا حصہ نہ بن سکے۔ چونکہ سونا اور چاندی خود پیسہ تھے، اس لیے ان کے لین دین کے لیے خاص قواعد مقرر کیے گئے۔ اگر سونا سونے کے بدلے یا چاندی چاندی کے بدلے بدلی جائے تو مقدار برابر ہونی چاہیے اور ادائیگی فوراً ہونی چاہیے۔ اگر سونا چاندی کے بدلے بدلا جائے تو مقدار مختلف ہو سکتی ہے، لیکن اس صورت میں بھی تاخیر کی اجازت نہیں دی گئی۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبادہ بن الصامتؓ کی روایت میں اس قانون کو اس طرح بیان فرمایا:

«لا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، سَوَاءً بِسَوَاءٍ، يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ» (صحیح مسلم — کتاب المساقاة باب الصرف / الربا، سنن ابی داود — کتاب البیوع، باب الصرف)

“سونے کو سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گیہوں کو گیہوں کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے نہ بیچو، مگر یہ کہ برابر برابر ہو، ایک جیسا ایک جیسا ہو اور ہاتھوں ہاتھ ہو۔ پھر اگر یہ اجناس مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچ لو، بشرطیکہ ہاتھوں ہاتھ ہو۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جب جنس ایک ہو تو برابری اور فوریت دونوں لازم ہیں، اور جب جنس مختلف ہو تب بھی فوریت لازم ہے۔ یوں ہر اس راستے کو بند کر دیا گیا ہے جس سے وقت پیسے کے لین دین میں داخل ہو سکتا تھا۔ تاخیر جہاں بھی آئے گی، وہاں وقت قیمت بن جائے گا، اور یہی وقت کی قیمتِ زر دراصل ربا کی بنیاد بنتی ہے۔

یہ سختی محض رسمی نہیں بلکہ ایک گہری معاشی حکمت پر مبنی ہے۔ جیسے ہی تبادلے میں تاخیر داخل ہوتی ہے، فریقین کے درمیان طاقت کا توازن بدل سکتا ہے اور ایک فریق دوسرے پر برتری حاصل کر سکتا ہے، صرف اس لیے کہ وقت گزر گیا۔ اسلام اسی امکان کو جڑ سے ختم کرتا ہے۔ فقہی زبان میں اسے سدّ الذرائع کہا جاتا ہے، یعنی ظلم اور استحصال کی طرف لے جانے والے تمام راستوں کو پہلے ہی بند کر دینا۔

اسلام چاہتا ہے کہ پیسہ اپنی اصل حیثیت میں رہے، یعنی ایک ذریعۂ تبادلہ، نہ کہ کمزور فریق سے دولت کھینچنے کا آلہ۔ اگر پیسے کے بدلے پیسہ لیا جائے اور اس میں وقت شامل ہو جائے تو وہی عمل جنم لیتا ہے جسے اسلام ربا کہتا ہے، کیونکہ یہاں وقت کی قیمتِ زر کو خاموشی سے قبول کر لیا جاتا ہے، چاہے وہ قرض کے نام سے ہو یا خرید و فروخت کے نام سے۔ وقت کی بنیاد پر پیدا ہونے والا ہر فائدہ کسی نہ کسی صورت میں ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔

یہی اصول واضح کرتا ہے کہ اسلام وقت کی قیمتِ زر کو صرف قرض میں نہیں بلکہ ہر قسم کے مالی لین دین میں رد کرتا ہے۔ پیسہ صرف اس وقت بڑھ سکتا ہے جب وہ کسی حقیقی معاشی سرگرمی میں داخل ہو اور اس کے ساتھ خطرہ بھی شامل ہو۔ لیکن محض وقت گزرنے سے پیسے کا بڑھنا اسلامی عدل کے خلاف ہے۔ اسی قانون کے ذریعے اسلام پیسے کو محنت، پیداوار اور حقیقی قدر سے جوڑ دیتا ہے اور اسے انتظار کے ذریعے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔

بیعتین فی بیع اور وقت سے منافع کی ممانعت

رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسا معاشی اور قانونی نظام قائم کیا جس کا مقصد صرف سود کے اعداد کو روکنا نہیں بلکہ وقت کی قیمتِ زر کو تجارت سے خارج کرنا تھا۔ اسی نظام کی بنیاد وہ حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ بَاعَ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ فَلَهُ أَوْكَسُهُمَا أَوِ الرِّبَا» (سنن ابی داود، کتاب البیوع، باب فی الرجل یبیع البیعتین فی بیعة، حدیث 3461)

“جس شخص نے ایک ہی معاملے میں دو بیعیں کیں تو اس کے لیے ان دونوں میں سے کم قیمت ہوگی، ورنہ وہ ربا ہوگا۔”

یعنی جو شخص ایک ہی سودے میں دو بیع کرے، اس کے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ کم قیمت اختیار کرے، یا وہ ربا میں داخل ہو جائے۔ یہ حدیث ایک واضح سرحد قائم کرتی ہے۔ جہاں دو قیمتیں یا دو شرطیں آ جائیں، وہاں فیصلہ یہ ہے کہ وقت سے پاک قیمت پر آ جایا جائے، کیونکہ زیادہ قیمت دراصل وقت کی قیمت ہوتی ہے۔

اسی اصول کو رسول اللہ ﷺ نے ایک اور بنیادی قاعدے سے مضبوط فرمایا:

«كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا فَهُوَ رِبًا» (السنن الکبریٰ للبیہقی)

یعنی ہر وہ قرض جو کوئی فائدہ پیدا کرے، ربا ہے۔ اگر کسی کو صرف اس لیے زیادہ دیا جا رہا ہے کہ اس نے انتظار کیا، تو وہ اضافہ نفع نہیں بلکہ سود ہے، چاہے اسے کسی بھی نام سے پیش کیا جائے۔

اسی بنیاد پر بیعتین فی بیع کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ وقت کو کسی نہ کسی شکل میں قیمت بنا دیا جاتا ہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ ایک ہی چیز کے لیے دو قیمتیں رکھی جائیں، ایک نقد اور ایک ادھار، اور سودا اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے کہ خریدار بعد میں فیصلہ کرے گا۔ یہاں دو بیعیں ایک ہی وقت میں موجود ہوتی ہیں، اور وقت خود ایک قیمت بن جاتا ہے۔

دوسری صورت یہ ہے کہ بظاہر ایک ہی قیمت پر سودا کیا جائے، مگر اس کے ساتھ یہ شرط شامل ہو کہ اگر مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہوئی تو قیمت بڑھ جائے گی۔ یہ دراصل ایک بیع کے اندر دوسری بیع داخل کر دینا ہے، اور یہاں بھی وقت مالی فائدہ بن جاتا ہے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ ایک سودے کو دوسرے سودے کے ساتھ مشروط کر دیا جائے، مثلاً یہ کہنا کہ “میں تمہیں یہ بیچوں گا اگر تم مجھے وہ بیچو گے۔” یہاں دو لین دین ایک ہی عقد میں باندھ دیے جاتے ہیں، اور یہ بھی بیعتین فی بیع کی ایک شکل ہے۔

ان تمام صورتوں میں نبی ﷺ کی حدیث کا فیصلہ ایک ہی ہے: اگر تم ایسے معاملے میں آ جاؤ جہاں دو قیمتیں یا دو شرطیں ہوں، تو تمہیں کم قیمت اختیار کرنا ہوگی، کیونکہ وہی قیمت وقت سے پاک ہے۔ زیادہ قیمت کا انتخاب دراصل وقت خریدنے کے برابر ہے، اور وہی ربا ہے۔

ربا النسیئہ کی اقسام کا پس منظر

ربا النسیئہ کوئی ایک خاص معاہدہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی رویہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ وقت کو مال بنا دیا جائے۔ جب بھی کسی مالی لین دین میں پیسہ صرف اس وجہ سے بڑھے کہ ادائیگی مؤخر ہوئی ہے، وہاں ربا النسیئہ پیدا ہو جاتا ہے۔ فرق اس بات میں نہیں ہوتا کہ معاہدہ قرض کہلایا یا بیع، بلکہ فرق اس بات میں ہوتا ہے کہ اضافہ کس بنیاد پر لیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سود کی ایک کھلی اور سادہ شکل تھی: قرض دیا جاتا تھا اور مدت بڑھنے پر رقم بڑھا دی جاتی تھی۔ اسلام نے اس کو براہِ راست حرام کر دیا۔ لیکن جب اس دروازے کو بند کیا گیا تو انسان نے وقت سے منافع کمانے کے دوسرے راستے تلاش کرنا شروع کر دیے۔ کبھی اسے خرید و فروخت کے نام پر چھپایا گیا، کبھی دو قیمتوں کے ذریعے، کبھی تاخیر کے جرمانے کے ذریعے، اور کبھی تجارتی معاہدوں کے اندر قرض کو چھپا کر۔

اسی لیے فقہ میں ربا النسیئہ کو ایک عددی شرح نہیں بلکہ ایک علت کے طور پر سمجھا جاتا ہے، اور وہ علت ہے الأجل مع الزيادة یعنی تاخیر کے ساتھ اضافہ۔ جہاں بھی یہ علت پائی جائے، وہاں ربا موجود ہوتا ہے، چاہے معاہدہ کسی بھی شکل میں کیوں نہ ہو۔

ربا النسیئہ کی عملی صورتیں

اسی فقہی بنیاد پر ربا النسیئہ کی چار عملی صورتیں وجود میں آتی ہیں، جو دراصل وقت سے منافع کمانے کے مختلف طریقے ہیں۔

پہلی صورت میں ایک ہی چیز کے لیے نقد اور ادھار کی دو قیمتیں ہوتی ہیں۔ اضافی رقم صرف اس وجہ سے لی جاتی ہے کہ خریدار کو وقت دیا گیا ہے۔

دوسری صورت میں نقد کا کوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔ پورا سودا ادھار پر ہوتا ہے اور قیمت ابتدا ہی سے اس بنیاد پر زیادہ رکھی جاتی ہے کہ ادائیگی مؤخر ہے۔

تیسری صورت میں ایک ہی قیمت ہوتی ہے، لیکن مقررہ وقت پر ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مزید رقم وصول کی جاتی ہے۔ فقہ میں اسے سَفقتین فی صفقة کہا جاتا ہے۔

چوتھی صورت میں دوسری اور تیسری دونوں صورتیں جمع ہو جاتی ہیں۔ یعنی سودا صرف ادھار پر ہوتا ہے اور اگر وقت پر ادائیگی نہ ہو تو مزید جرمانہ بھی لگایا جاتا ہے۔

ان چاروں صورتوں میں حقیقت ایک ہی ہے: پیسہ کسی محنت، کسی ملکیت یا کسی کاروباری خطرے سے نہیں بلکہ صرف وقت گزرنے سے بڑھ رہا ہے۔

بعض علما یہ کہتے ہیں کہ اگر دو قیمتوں میں سے ایک کو مجلسِ عقد میں طے کر لیا جائے تو معاملہ درست ہو جاتا ہے، لیکن اس دعوے کے لیے ان کے پاس کسی صریح نص کی دلیل موجود نہیں۔ ایک طرف نبی ﷺ نے بیعتین فی بیع کی صورت میں واضح حد مقرر کر دی ہے، اور دوسری طرف یہ رائے بغیر کسی نص کے پیش کی جا رہی ہے، تو پھر انسان کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس کی بات مانے: نصِ نبوی کو یا بعد کی آراء کو۔

اسلام شکلوں سے نہیں بلکہ حقیقت سے فیصلہ کرتا ہے۔ اگر کسی سودے میں وقت کو منافع کا ذریعہ بنا دیا گیا ہو تو وہ ربا ہی ہے، چاہے اسے بیع، مرابحہ یا کسی اور نام سے پیش کیا جائے۔ نبوی ﷺ کا معاشی نظام اسی اصول پر قائم ہے کہ دولت محنت، ملکیت اور خطرے سے بڑھے، نہ کہ محض انتظار سے۔

بینکاری، اور نام نہاد اسلامی مالیات

جدید بینکاری کا بنیادی ڈھانچہ ایک ہی اصول پر کھڑا ہے: پیسہ آج دو، زیادہ پیسہ کل لو۔
چاہے اسے سود کہا جائے، منافع کہا جائے، کرایہ کہا جائے یا کسی اور نام سے پیش کیا جائے، حقیقت یہی رہتی ہے کہ پیسہ صرف وقت گزرنے کی بنیاد پر بڑھایا جاتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے اسلام نے ربا النسیئہ کہہ کر روکا ہے۔

بینک نہ کوئی کاروباری خطرہ اٹھاتے ہیں، نہ کسی چیز کے مالک بنتے ہیں، نہ کسی نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔ وہ صرف رقم دیتے ہیں اور اس پر یقینی اضافہ واپس لیتے ہیں۔ اس طرح نفع کو خطرے سے جدا کر دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلامی اصول (الخراج بالضمان) یہ ہے کہ نفع صرف اسی کو مل سکتا ہے جو نقصان کا امکان بھی برداشت کرے۔

جب یہی نظام “اسلامی” نام کے ساتھ اپنایا جاتا ہے تو صورت بدل جاتی ہے، حقیقت نہیں۔ کبھی اس کو مرابحہ کہا جاتا ہے، کبھی اجارہ، کبھی مشارکہ کی شکل دی جاتی ہے، لیکن اگر آخر میں بینک کو بغیر کسی خطرے کے طے شدہ اضافہ مل رہا ہو تو وہ اضافہ وقت ہی کے بدلے ہوتا ہے۔ نام بدلنے سے ربا ختم نہیں ہوتا۔

اس کا سب سے بڑا نقصان معاشرے پر پڑتا ہے۔ جو لوگ قرض لیتے ہیں وہ عموماً مجبوری میں ہوتے ہیں۔ جب ان سے وقت کے بدلے زیادہ وصول کیا جاتا ہے تو دولت محنت کرنے والوں سے نکل کر سرمایہ رکھنے والوں کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سودی نظام امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بناتا ہے۔

اسلام اس عدم توازن کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سرمایہ حقیقی معیشت میں لگے، کاروبار بنیں، روزگار پیدا ہو، اور نفع خطرے کے ساتھ جڑا ہو۔ اس لیے اسلام نے وقت کو مال بنانے کی ہر صورت کو بند کر دیا۔

حتمی حقیقت یہ ہے:
اسلام نے شرحِ سود کو نہیں روکا، اسلام نے وقت سے منافع کمانے کو روکا ہے۔ پیسہ محنت، تجارت، ملکیت اور خطرے سے بڑھ سکتا ہے، لیکن محض انتظار سے نہیں۔

ربا کوئی عدد نہیں، ربا وقت کو بیچنے کا جرم ہے۔

خلاصۂ کلام: وقت کی قیمتِ زر دراصل ربا النسیئہ ہی ہے

اسلامی مالیات اور ربا کے متعلق تمام بحثوں کا مقصد یہی ہے کہ ہم ایک ایسے مالیاتی نظام کی طرف قدم بڑھائیں جو عدل و انصاف پر مبنی ہو، نہ کہ وقت کو قیمت بنانے والے سودی نظام پر۔ نبی ﷺ کی احادیث اور فقہ میں جو اصول متعین کیے گئے ہیں، وہ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ پیسہ کسی محنت، کسی ملکیت یا کسی کاروباری خطرے سے نہیں بلکہ صرف وقت کے گزرنے سے نہیں بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ نقطہ ہے جسے ربا النسیئہ کہا جاتا ہے، اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو اسلامی مالیات کو موجودہ سودی نظام سے الگ کرتا ہے۔

بیعتین فی بیع، سَفقتین فی صفقة، اور ربا النسیئہ کی مختلف صورتوں کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وقت کو قیمت بنانے کی ہر صورت کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ جہاں تک نام نہاد اسلامی مالیاتی طریقے جیسے مرابحہ، مشارکہ اور اجارہ کی بات ہے، ان میں بھی اگر وقت کے بدلے اضافی رقم وصول کی جائے، تو وہ بھی ربا کی ہی شکل ہے۔

اسلام نے سرمایہ کاری، تجارت اور قرض کے تمام طریقوں کو محنت اور خطرے سے جڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ معیشت میں حقیقی ترقی ہو اور دولت کا ارتکاز صرف امیروں تک محدود نہ رہے۔ محنت اور کامیاب کاروبار کو پروان چڑھانے کے لیے اسلامی مالیاتی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔

اختتاماً

اسلامی مالیات کا مقصد وقت کو بیچنے کی بجائے محنت اور خطرہ کے بدلے نفع کمانا ہے۔ اس کے ذریعے ایک منصفانہ اور مستحکم معیشت قائم کی جا سکتی ہے، جو صرف مالی فائدہ نہیں بلکہ مجموعی معاشرتی فائدہ فراہم کرے۔ ربا کی ممانعت صرف ایک عددی فرق پر مبنی نہیں، بلکہ اس کا مقصد معاشی انصاف اور مساوات کا قیام ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے اگر آپ اس مضمون میں بیان کیے گئے تصورِ ربا النسیئہ اور وقت کی قیمتِ زر کی فقہی و معاشی بنیاد کو مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں تو درج ذیل روابط نہایت معاون ہیں۔ ربا النسیئہ کو بطور وقت کے بدلے اضافہ واضح کرنے والی تفصیلی بحث یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے:
https://economiclens.org/riba-al-nasiah-the-time-value-of-money/
اسی طرح جدید اسلامی مالیات، خصوصاً مضاربہ کے نام پر ہونے والی اصولی اور عملی خلاف ورزیوں کی وضاحت اس تحریر میں موجود ہے:
https://economiclens.org/mudarabah-ki-khilaf-warziyan/
جبکہ بین الاقوامی سطح پر اسی اصول کی تائید AAOIFI (Accounting and Auditing Organization for Islamic Financial Institutions) کے شریعہ معیارات میں بھی کی گئی ہے، جہاں نفع کو ملکیت اور ضمان (رسک) کے ساتھ مشروط قرار دیا گیا ہے اور وقت کے بدلے طے شدہ اضافہ صراحتاً ناجائز سمجھا گیا ہے:
https://aaoifi.com/shariaa-standards/?lang=en

یہ تمام مراجع مل کر اس مضمون کے مرکزی نکتے کی تائید کرتے ہیں کہ اسلام نے شرحِ سود نہیں بلکہ وقت کو بذاتِ خود منافع کا ذریعہ بنانے کے تصور کو رد کیا ہے۔

2 thoughts on “وقت کی قیمتِ زر اور ربا النسیئہ کی اصل حقیقت”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top