اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کی تفصیلی وضاحت، جس میں قرآنی کفالت، اجتماعی ذمہ داری، زکوٰۃ، وقف، عاقلہ، اور مرَوَّجہ اسلامی تکافل کے ادارہ جاتی ماڈل کا فقہی و سماجی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، تاکہ تکافل اور روایتی انشورنس کے بنیادی فرق کو واضح کیا جا سکے۔
حصہ اوّل: اسلامی تصورِ تکافل، کفالت، اور اجتماعی ذمہ داری
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کو سمجھنے سے پہلے یہ بنیادی نکتہ واضح کرنا ضروری ہے کہ تکافل اسلام میں کسی مالیاتی پروڈکٹ، بیمہ اسکیم، یا تجارتی معاہدے کا نام نہیں۔ بلکہ یہ ایک ایسا سماجی اور اخلاقی نظام ہے جو باہمی ذمہ داری، اجتماعی کفالت، اور معاشرتی تعاون کے اصول پر قائم ہے۔ اس تصور میں فرد کو معاشی خطرات کے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ سماج کو اس کی پشت پر کھڑا کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کا تعلق محض خطرات کی منتقلی سے نہیں، بلکہ خطرات کو اجتماعی سطح پر برداشت کرنے سے ہے۔
لغوی اعتبار سے “تکافل” کی جڑ “کفالت” ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک فرد یا گروہ کسی دوسرے فرد کی ذمہ داری قبول کرے۔ یہ ذمہ داری محض وقتی مدد یا انفرادی خیرات تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس میں تسلسل، التزام، اور نظم شامل ہوتا ہے۔ اسلام نے کفالت کو محض اخلاقی فضیلت کے درجے میں نہیں رکھا، بلکہ اسے ایک منظم سماجی اصول کے طور پر پیش کیا ہے، جو معاشرتی ڈھانچے میں رچ بس جاتا ہے۔
قرآنی تناظر میں کفالت کا اجتماعی تصور
قرآنِ مجید میں کفالت اور تکافل کا تصور نہایت واضح اور صریح انداز میں سامنے آتا ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام کے بارے میں فرمایا گیا:
وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا-یعنی اللہ تعالیٰ نے مریم کی کفالت زکریا کے ذمہ لگا دی۔ (آل عمران: ٣٧، https://quran.com/3/37)
اسی واقعے کے تسلسل میں قرآن یہ سوال بھی نقل کرتا ہے: أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ (سورۃ آلِ عمران، آیت 44, https://quran.com/3/44)
یعنی ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا؟
ان آیات کا اسلوب اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کفالت کوئی غیر متعین، وقتی، یا جذباتی عمل نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ، طے شدہ، اور ذمہ داری پر مبنی اجتماعی معاملہ ہے۔ یہاں کفالت کسی فرد کی ذاتی نیکی پر نہیں چھوڑی گئی، بلکہ اسے اجتماعی فیصلے کے ذریعے متعین کیا گیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کی فکری بنیاد بنتا ہے۔
قرآن کا عمومی مزاج بھی اسی اجتماعی ذمہ داری کو تقویت دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى
یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ (المائدہ: 2)
یہ آیت محض اخلاقی ترغیب نہیں، بلکہ ایک اجتماعی اصول بیان کرتی ہے۔ تعاون کو فرد کی نیکی کے بجائے سماج کی ذمہ داری بنایا گیا ہے۔ یہی اصول آگے چل کر اسلامی تصورِتکافل اور وقف فنڈ میں ادارہ جاتی صورت اختیار کرتا ہے۔
کفالت بطور حق، خیرات نہیں
اسی طرح قرآن کمزور اور ضرورت مند طبقات کی کفالت کو اجتماعی ذمہ داری کے طور پر بیان کرتا ہے: وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ
یعنی ان کے مال میں سوال کرنے والے اور محروم کا حق ہے۔ (الذاریات: 19)
یہاں “حق” کا لفظ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ کفالت محض احسان نہیں، بلکہ ایک لازم سماجی ذمہ داری ہے۔ یہی تصور اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کو خیرات سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ یہاں مدد “فضل” نہیں بلکہ “حق” کے دائرے میں آتی ہے۔
اسلامی معاشرت میں فرد کو سماج سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ اسی لیے قرآن مالی کمزوری کو ذلت کا سبب نہیں بناتا، بلکہ اس کے مقابلے میں اجتماعی سہارا فراہم کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ
یعنی اگر کوئی تنگ دست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دی جائے۔ (البقرۃ: 280)
یہ آیت اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کے اخلاقی مزاج کو واضح کرتی ہے۔ یہاں دباؤ، جرمانہ، یا فرد کو تنہا چھوڑ دینے کے بجائے مہلت، نرمی، اور اجتماعی فہم کو ترجیح دی گئی ہے۔
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ دراصل اسی قرآنی فکر کی عملی توسیع ہے۔ یہ تصور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ انسانی زندگی میں خطرات ناگزیر ہیں، مگر ان خطرات کو “ذاتی ناکامی” بنا دینا ناانصافی ہے۔ اسی لیے اسلام خطرے کو اخلاقی جرم نہیں بناتا، بلکہ اسے ایک اجتماعی حقیقت مانتا ہے، جس کا مقابلہ اجتماعی نظم کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
یہاں ایک بنیادی فرق نمایاں ہوتا ہے۔ روایتی مالیاتی نظام میں خطرے کو ایک فریق سے دوسرے فریق کی طرف منتقل کیا جاتا ہے، اور اسی منتقلی کو نفع کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تصورِ تکافل میں خطرے کو فروخت نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے بانٹا جاتا ہے۔ یہی فرق تکافل کو محض انشورنس سے ممتاز کرتا ہے، اور یہی فرق اس کے فقہی اور اخلاقی جواز کی بنیاد بنتا ہے۔
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کی روح اسی اجتماعی شعور میں مضمر ہے۔ یہاں تعاون کسی معاہدے کی شق نہیں بنتا، بلکہ ایک سماجی قدر بن جاتا ہے۔ فرد اس نیت سے تعاون کرتا ہے کہ وہ آج کسی اور کے لیے سہارا بنے، تاکہ کل ضرورت پڑنے پر سماج اس کے لیے سہارا بن سکے۔ اس نظام میں نفع کی ضمانت نہیں، بلکہ ذمہ داری کی قبولیت اصل قدر ہوتی ہے۔
یہی وہ قرآنی اور فکری بنیاد ہے جس پر آگے چل کر زکوٰۃ، عشر، صدقۃ الفطر، عاقلہ، اور وقف جیسے ادارے قائم ہوئے۔ ان تمام اداروں کا مشترک نکتہ یہ ہے کہ مالی بوجھ کو فرد سے اٹھا کر سماج میں تقسیم کیا جائے۔ اسی بنیاد پر بعد میں مرَوَّجہ اسلامی تکافل کے ادارہ جاتی ڈھانچے وجود میں آئے، جن کی تفصیل اگلے حصوں میں آئے گی۔ مگر اس مقام پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کی اس قرآنی بنیاد کو نظرانداز کر دیا جائے، تو باقی تمام ساختیں محض خالی سانچے بن کر رہ جاتی ہیں۔
حصہ دوم: اسلامی معاشرے میں تکافل کی عملی اور ادارہ جاتی صورتیں
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ محض نظری بحث تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسلامی معاشرت میں اس نے ہمیشہ عملی اور ادارہ جاتی شکل اختیار کی ہے۔ قرآن نے جس اجتماعی کفالت اور باہمی ذمہ داری کا تصور پیش کیا، وہ محض اخلاقی وعظ نہیں تھا، بلکہ اس کی عملی تعبیر اسلامی سماج کے مختلف مستقل اداروں میں سامنے آتی ہے۔ یہی ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام نے معاشی عدم تحفظ کو فرد کا نجی مسئلہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے اجتماعی نظم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔
اس سلسلے کی سب سے نمایاں اور منظم صورت زکوٰۃ کا نظام ہے۔ زکوٰۃ محض انفرادی صدقہ نہیں، بلکہ ایک فرض مالی ادارہ ہے جو ریاستی اور سماجی نظم سے جڑا ہوا ہے۔ قرآن نے زکوٰۃ کے مصارف کو متعین کر کے واضح کر دیا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت کوئی اختیاری عمل نہیں، بلکہ ایک لازم اجتماعی ذمہ داری ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے مال کو سماج میں گردش میں رکھا جاتا ہے، تاکہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو اور معاشی بوجھ کمزور طبقات پر مستقل نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ زکوٰۃ کو اسلامی تکافل کی سب سے مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہاں کفالت “احسان” نہیں بلکہ “حق” کے تصور کے تحت انجام پاتی ہے۔
اسی طرح زرعی معیشت میں عشر کا نظام اجتماعی تکافل کی ایک اور صورت ہے۔ عشر کے ذریعے پیداوار کا ایک حصہ خودکار انداز میں سماج کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے۔ اس میں کسان کی نیت یا رضاکارانہ سخاوت بنیادی عنصر نہیں بنتی، بلکہ ایک باقاعدہ مالی نظم کے تحت اجتماعی فلاح کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام معاشی سرگرمی کو سماجی ذمہ داری سے الگ نہیں دیکھتا، بلکہ پیداوار کے ساتھ ہی کفالت کا حق وابستہ کر دیتا ہے۔
فرض مالی ادارے اور اجتماعی کفالت کا نظم
صدقۃ الفطر بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو اسلامی معاشرت کے اجتماعی مزاج کو واضح کرتی ہے۔ اس کا مقصد یہ نہیں کہ چند افراد نیکی کا ثواب حاصل کریں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اجتماعی خوشی کے موقع پر کوئی فرد بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔ یہاں بھی تکافل کا تصور فردی خیرات سے آگے بڑھ کر سماجی توازن کی صورت اختیار کرتا ہے، کیونکہ اس کی ادائیگی وقت، مقدار، اور مصرف کے لحاظ سے منظم ہوتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں تعلیمی وظائف، طلبہ کی کفالت، اور علمی سرپرستی بھی تکافل ہی کی فکری اور تمدنی صورتیں تھیں۔ مدارس، جامعات، اور علمی مراکز میں اوقاف کے ذریعے طلبہ کی رہائش، خوراک، اور تعلیم کا انتظام کیا جاتا تھا۔ اس نظام کا مقصد یہ تھا کہ علم کا حصول صرف مالی استطاعت تک محدود نہ رہے۔ یہاں تکافل کا دائرہ صرف معاشی بقا تک محدود نہیں رہتا، بلکہ فکری اور علمی ترقی تک پھیل جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ محض غربت کے مسئلے کا حل نہیں، بلکہ سماجی ارتقا کا ذریعہ بھی ہے۔
عاقلہ، دیت، اور جدید ریاستی نظام میں تکافل کی توسیع
جدید دور میں جب ریاست نے معاشرتی نظم میں مرکزی کردار سنبھالا، تو تکافل کی یہی روح ریاستی سماجی تحفظ کے نظاموں میں منتقل ہو گئی۔ پنشن، اولڈ ایج بینیفٹس، اور نقد معاونت کے پروگرام اس بات کی مثال ہیں کہ معاشی کمزوری کو فرد کی ناکامی کے بجائے ایک اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پروگرام فقہی لحاظ سے زکوٰۃ یا وقف نہیں کہلاتے، مگر اپنی ماہیت میں اجتماعی تکافل ہی کی جدید صورتیں ہیں، کیونکہ ان کا مقصد معاشی جھٹکوں سے افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
فقہِ اسلامی میں قتلِ خطا کی صورت میں دیت کا حکم بھی تکافل کے اسی عملی اصول کو نمایاں کرتا ہے۔ یہاں مالی ذمہ داری صرف ایک فرد پر نہیں ڈالی جاتی، بلکہ اس کی عاقلہ پر تقسیم کی جاتی ہے۔ اس تقسیم کا مقصد یہ نہیں کہ جرم ہلکا ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ مالی بوجھ سماج میں بانٹا جائے، تاکہ ایک فرد یا خاندان مکمل طور پر تباہ نہ ہو۔ یہ اصول واضح کرتا ہے کہ اسلام میں مالی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے کے لیے اجتماعی ڈھانچے موجود ہیں، اور یہی ڈھانچے بعد میں تکافل جیسے اداروں کی فکری بنیاد بنتے ہیں۔
ان تمام مثالوں میں ایک مشترک قدر نمایاں ہے۔ اسلام نے معاشی خطرات، حادثات، اور کمزوریوں کو فرد کی سطح پر قید نہیں رکھا۔ بلکہ اس نے ان کے مقابلے کے لیے ایسے ادارے تشکیل دیے جو تسلسل، نظم، اور اجتماعی ذمہ داری پر قائم ہوں۔ یہی ادارے اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کو ایک زندہ سماجی حقیقت بناتے ہیں، نہ کہ محض ایک نظری تصور۔
یہاں تک گفتگو کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ تکافل اسلام میں کوئی نیا یا درآمد شدہ تصور نہیں۔ بلکہ یہ اسلامی معاشرت کے اندر گہرائی سے پیوست ایک اصول ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف ادارہ جاتی صورتوں میں ظاہر ہوا۔ اسی فکری اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جدید دور میں جب “اسلامی تکافل” کے نام سے ایک باقاعدہ مالیاتی نظام پیش کیا جاتا ہے، تو وہ ان روایتی اداروں اور اقدار سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ اسی سوال کی تمہید اگلے حصے میں سامنے آئے گی۔
حصہ سوم: تعاون، انجمنِ باہمی امداد، اور جدید معاشی ضرورت
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کی عملی تعبیر صرف عبادات یا روایتی فلاحی اداروں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ تصور سماجی تنظیم اور معاشی اشتراک کے وسیع تر دائرے تک پھیلتا ہے۔ جب معاشرہ پیچیدہ ہوتا ہے، آبادی بڑھتی ہے، اور خطرات کی نوعیت بدلتی ہے، تو محض انفرادی خیرات یا غیر منظم مدد کافی نہیں رہتی۔ ایسے حالات میں تعاون پر مبنی اجتماعی ادارے ایک بنیادی ضرورت بن جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں تعاونی سوسائٹیز اور انجمنِ باہمی امداد کو اسلامی معاشرت کے فطری تسلسل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
انجمنِ باہمی امداد کی اصل روح یہ ہوتی ہے کہ افراد اپنی محدود استطاعت کو یکجا کریں، تاکہ بڑے خطرات اور غیر متوقع نقصانات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہاں مقصد سرمایہ اکٹھا کر کے نفع کمانا نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا اجتماعی سہارا فراہم کرنا ہوتا ہے جو فرد کو معاشی تنہائی سے نکال سکے۔ یہی اصول اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کے مزاج سے ہم آہنگ ہے، کیونکہ دونوں میں مرکزیت فرد کی نہیں، بلکہ جماعت کی ہوتی ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے تعاون کی بنیاد “ملکیت کی منتقلی” نہیں، بلکہ “ذمہ داری کی شراکت” ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شریک افراد کسی دوسرے کے خطرے کو خرید نہیں رہے ہوتے، بلکہ اس خطرے کو اپنے ساتھ بانٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہی فرق انجمنِ باہمی امداد کو محض کاروباری شراکت سے ممتاز کرتا ہے۔ یہاں مالی شمولیت کا مقصد نفع حاصل کرنا نہیں، بلکہ اجتماعی تحفظ کو ممکن بنانا ہوتا ہے۔
جب تعاون مالیاتی منطق کے تابع ہو جائے
تاہم اسی مقام پر ایک نازک مگر فیصلہ کن سوال جنم لیتا ہے۔ جب تعاون کو ایک باقاعدہ مالیاتی ڈھانچے میں ڈھالا جاتا ہے، اور اس ڈھانچے کے اندر انتظامی مفادات، منافع کے اہداف، اور مارکیٹ کی منطق داخل ہو جاتی ہے، تو تعاون کی اصل روح متاثر ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی تصورِتکافل اور وقف فنڈ کے نام پر قائم بعض جدید اداروں پر سوال اٹھتا ہے۔ مسئلہ تعاون کے تصور میں نہیں، بلکہ اس تصور کو مالیاتی منطق کے تابع کر دینے میں پیدا ہوتا ہے۔
انجمنِ باہمی امداد کی اصل قدر یہ ہوتی ہے کہ وہ شرکاء کے درمیان مساوات، اعتماد، اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دے۔ لیکن جب یہی انجمن ایک ایسی ساخت اختیار کر لے جہاں چند افراد یا ادارے انتظامی کنٹرول اور مالی فائدے کے مرکز میں آ جائیں، تو تعاون بتدریج ایک خدمت کے بجائے ایک مصنوعی مالیاتی پروڈکٹ بننے لگتا ہے۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی تکافل کا اخلاقی پہلو کمزور اور مالی پہلو غالب ہو جاتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اسلامی تصورِتکافل اور وقف فنڈ خطرے کے مکمل خاتمے کا وعدہ نہیں کرتا۔ بلکہ یہ خطرے کو انسانی حقیقت مانتے ہوئے اس کے اثرات کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس کے برعکس جدید مالیاتی سوچ اکثر خطرے کو یا تو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، یا پھر اسے منافع کا ذریعہ بنا لیتی ہے۔ دونوں رویے اسلامی تکافل کے مزاج سے مختلف ہیں، کیونکہ یہاں نہ خطرے کا انکار ہے اور نہ اس کی خرید و فروخت۔
اسی لیے تعاونی ادارے اور انجمنِ باہمی امداد اسلامی معاشرت میں اس وقت تک بامقصد رہتے ہیں جب تک وہ تعاون، شراکت، اور ذمہ داری کے اصول پر قائم رہیں۔ جیسے ہی یہ ادارے منافع کی ضمانت، واپسی کے وعدے، یا سرمایہ بڑھانے کے اہداف کو مرکز بنا لیتے ہیں، وہاں سے تکافل کا سماجی تصور پیچھے ہٹنے لگتا ہے اور مالیاتی منطق آگے آ جاتی ہے۔
یہ حصہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ تعاون بذاتِ خود نہ تو مسئلہ ہے اور نہ ہی اس کا ادارہ جاتی ہونا۔ اصل سوال یہ ہے کہ تعاون کس مقصد کے تحت منظم کیا جا رہا ہے، اور اس تنظیم کے اندر فیصلہ کن حیثیت کس کے پاس ہے۔ یہی سوال آگے چل کر مرَوَّجہ اسلامی تکافل کے ماڈل کو سمجھنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا، کیونکہ وہاں تعاون کے دعوے اور مالیاتی ساخت کے درمیان ایک واضح تناؤ سامنے آتا ہے، جسے اگلے حصے میں بیان کیا جائے گا۔
حصہ چہارم: مرَوَّجہ اسلامی تکافل کا ظہور اور وقف فنڈ بطور بنیاد
اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ کے اس فکری اور سماجی پس منظر کے بعد اب اس مرحلے کو سمجھنا ضروری ہے جہاں جدید دور میں “اسلامی تکافل” ایک باقاعدہ مالیاتی نظام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ ظہور محض نظری ضرورت کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ جدید ریاست، پیچیدہ معیشت، اور روایتی انشورنس کے پھیلاؤ نے ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسے اسلامی اصطلاحات اور فقہی اصولوں کے ساتھ پُر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی کوشش کے نتیجے میں مرَوَّجہ اسلامی تکافل کا ادارہ جاتی ماڈل سامنے آیا۔
روایتی انشورنس پر فقہی اعتراضات، خصوصاً غرر، قمار، اور سودی عناصر کی موجودگی، اہلِ علم کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن چکے تھے۔ ایک طرف جدید معاشی زندگی میں انشورنس کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا، اور دوسری طرف اس کی موجودہ صورت کو جوں کا توں قبول کرنا بھی فقہی طور پر مشکل تھا۔ اسی تناؤ کے اندر اسلامی تکافل کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، جس کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ انشورنس کی عملی ضرورت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی فقہی خرابیوں سے بچ سکتا ہے۔
روایتی انشورنس کے فقہی تناؤ اور اسلامی تکافل کی پیشکش
اس متبادل کی بنیاد وقف فنڈ کے قیام پر رکھی گئی۔ مرَوَّجہ اسلامی تکافل کے ماڈل میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ تکافل آپریٹر اپنے ابتدائی سرمائے سے وقفِ نقدی قائم کرے، جو بعد میں تکافل فنڈ کی حیثیت اختیار کر لے۔ اس وقف فنڈ کو ایک مستقل اور خودمختار مالی ہستی سمجھا جاتا ہے، جو نہ کمپنی کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے اور نہ ہی پالیسی ہولڈرز کی مشترکہ ملکیت۔ اس طرح دعویٰ کیا جاتا ہے کہ نہ تو یہ تجارتی سرمایہ ہے اور نہ ہی شرکاء کا ذاتی اثاثہ، بلکہ ایک وقف شدہ مال ہے جو اجتماعی کفالت کے مقصد کے لیے مخصوص ہے۔
وقف فنڈ کے تصور کے ذریعے مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں یہ کوشش کی گئی کہ شرکاء کے درمیان باہمی تعاون کو قانونی اور فقہی بنیاد فراہم کی جائے۔ پالیسی ہولڈرز جو رقم ادا کرتے ہیں، اسے قیمت یا سرمایہ قرار دینے کے بجائے “چندہ” کہا جاتا ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ وہ اس رقم کے بدلے کوئی ضمانت شدہ فائدہ نہیں خرید رہے، بلکہ ایک اجتماعی تعاون میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس تصور کے تحت اگر کسی شریک کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کی تلافی وقف فنڈ سے کی جاتی ہے، گویا تمام شرکاء ایک دوسرے کے ضامن بن جاتے ہیں۔
وقف فنڈ کی فقہی حیثیت اور ادارہ جاتی دعویٰ
یہاں وقف فنڈ کی حیثیت فیصلہ کن بن جاتی ہے۔ چونکہ وقف کی فقہی حقیقت یہ ہے کہ وقف شدہ مال انسانی ملکیت سے نکل جاتا ہے، اس لیے مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فنڈ میں موجود رقم پر نہ تکافل آپریٹر کی ملکیت ہے اور نہ ہی شرکاء کی۔ اس کے نتیجے میں یہ کہا جاتا ہے کہ انشورنس میں پائی جانے والی “بیع” یا “قرض” کی صورت یہاں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ ایک خالص تعاون اور اعانت کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔
مرَوَّجہ اسلامی تکافل کے اس ماڈل میں وقف فنڈ کو مرکز بنا کر پورے نظام کو فقہی طور پر قابلِ قبول بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ وقف کو محض ایک انتظامی سہولت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اسے پورے تکافل ڈھانچے کی اخلاقی اور فقہی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ اس بنیاد کے بغیر مرَوَّجہ تکافل کا ماڈل اپنے دعوے کے مطابق روایتی انشورنس سے الگ حیثیت قائم نہیں کر پاتا۔
تاہم اس مرحلے پر یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہاں اب تک کسی تنقید یا فیصلے کی بات نہیں کی جا رہی۔ اس حصے کا مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ مرَوَّجہ اسلامی تکافل کس فکری پس منظر میں وجود میں آیا، اور اس نے وقف فنڈ کو کیوں اپنی بنیاد بنایا۔ یہ ایک بیانی مرحلہ ہے، جس میں دعوے اور ساخت کو اسی طرح بیان کیا جا رہا ہے جس طرح وہ پیش کیے جاتے ہیں۔ اس ماڈل کے عملی نتائج، داخلی تضادات، اور فقہی سوالات اگلے حصوں میں زیرِ بحث آئیں گے۔
حصہ پنجم: وقف فنڈ کی فقہی حیثیت اور تکافل آپریٹر کا کردار
مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں وقف فنڈ کو جو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، اسے سمجھنے کے لیے وقف کی فقہی حقیقت کو سامنے رکھنا ناگزیر ہے۔ فقہِ اسلامی میں وقف کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جب کوئی مال وقف کیا جاتا ہے تو وہ انسانی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد نہ واقف اس کا مالک رہتا ہے اور نہ کوئی دوسرا فرد، بلکہ اس مال کو ایک خاص مقصد کے لیے منجمد کر دیا جاتا ہے، اور اس کے اصل سرمائے کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے منافع کو متعین مصرف میں صرف کیا جاتا ہے۔ یہی تصور وقف کو صدقۂ جاریہ بناتا ہے اور اسے عام عطیات یا خیرات سے ممتاز کرتا ہے۔
اسی فقہی تصور کو مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں بنیاد بنایا گیا ہے۔ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ چونکہ تکافل فنڈ ایک وقف ہے، اس لیے اس میں جمع ہونے والی رقوم نہ کمپنی کی ملکیت ہیں اور نہ ہی پالیسی ہولڈرز کی۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہاں نہ تو بیع کا رشتہ قائم ہوتا ہے اور نہ قرض کا، بلکہ ایک ایسا تعاون وجود میں آتا ہے جو فقہی اعتراضات سے محفوظ رہتا ہے۔ وقف فنڈ کو اس طرح ایک غیر ذاتی، غیر تجارتی مالی ہستی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو صرف اجتماعی کفالت کے مقصد کے لیے کام کرتی ہے۔
وقف کی اسی بنیاد پر تکافل آپریٹر کے کردار کی تعریف کی جاتی ہے۔ مرَوَّجہ ماڈل میں تکافل آپریٹر کو فنڈ کا مالک نہیں بلکہ اس کا متولی قرار دیا جاتا ہے۔ متولی کی حیثیت یہ ہوتی ہے کہ وہ وقف کے انتظامی امور سنبھالتا ہے، اس کے حسابات کی نگرانی کرتا ہے، اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وقف کا مال اسی مقصد میں استعمال ہو جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا۔ اس تصور کے مطابق تکافل آپریٹر خود کو ایک امانت دار اور منتظم کے طور پر پیش کرتا ہے، نہ کہ ایک تاجر یا سرمایہ کار کے طور پر۔
عملی طور پر تکافل آپریٹر کے ذمے کئی ذمہ داریاں آتی ہیں۔ وہ پالیسی ہولڈرز سے چندے وصول کرتا ہے، کلیمز کی ادائیگی کا انتظام کرتا ہے، اور وقف فنڈ کے سرمائے کو نفع بخش مگر شرعی کاروبار میں لگانے کے انتظامات کرتا ہے۔ اس پورے عمل میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آپریٹر کا کردار صرف انتظام اور خدمت تک محدود ہے، اور وہ فنڈ کے سرمائے پر کسی قسم کی ملکیتی دعویٰ نہیں رکھتا۔
اسی مقام پر تکافل آپریٹر کی آمدنی کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں اس آمدنی کو مختلف فقہی عناوین کے تحت جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، جیسے وکالت بالاجر یا مضاربہ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپریٹر یا تو وقف فنڈ کی جانب سے اجرت پر خدمات فراہم کر رہا ہوتا ہے، یا پھر سرمایہ کاری کی صورت میں منافع میں ایک طے شدہ حصہ حاصل کرتا ہے۔ اس ترتیب کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ آپریٹر کی کمائی وقف فنڈ کی ملکیت پر مبنی نہیں، بلکہ اس کی خدمات اور انتظامی کردار کے بدلے ہے۔
یہ پورا ڈھانچہ بظاہر ایک مربوط فقہی سانچے میں پیش کیا جاتا ہے، جہاں وقف، تولیت، وکالت، اور مضاربہ جیسے تصورات ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر مرَوَّجہ اسلامی تکافل کو ایک مستقل نظام کی صورت دیتے ہیں۔ اس مرحلے پر نظام کے اندر موجود مفروضات اور دعوے خود اپنے اندر مکمل نظر آتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ مرَوَّجہ اسلامی تکافل کو ایک شرعی متبادل کے طور پر قبولیت حاصل ہوئی۔
حصہ ششم: مرَوَّجہ تکافل فنڈ کی عملی تشکیل اور داخلی منطق
وقف فنڈ اور متولی کے فقہی تصور کے بعد مرَوَّجہ اسلامی تکافل کو سمجھنے کا اگلا مرحلہ اس کی عملی تشکیل ہے، یعنی یہ نظام حقیقت میں کس طرح کام کرتا ہے اور اس کی اندرونی منطق کیا ہے۔ اس مقام پر یہ بات واضح رکھنا ضروری ہے کہ یہاں بھی ابھی کسی تنقیدی نتیجے کی طرف جانا مقصود نہیں، بلکہ صرف اس عملی ڈھانچے کو بیان کرنا ہے جس پر مرَوَّجہ تکافل قائم ہے۔
مرَوَّجہ اسلامی تکافل میں جو افراد اس نظام میں شامل ہوتے ہیں، انہیں پالیسی ہولڈرز کہا جاتا ہے۔ یہ افراد جو رقم ادا کرتے ہیں، اسے رسمی طور پر “چندہ” قرار دیا جاتا ہے، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ یہ رقم کسی خدمت یا ضمانت کی قیمت نہیں، بلکہ ایک اجتماعی تعاون میں شرکت ہے۔ یہ چندہ وقف فنڈ میں جمع ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد فرد کی ملکیت سے نکل کر وقف کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس نکتے کو مرَوَّجہ تکافل میں بنیادی حیثیت دی جاتی ہے، کیونکہ اسی پر یہ دعویٰ قائم ہے کہ یہاں خرید و فروخت یا قرض کا رشتہ پیدا نہیں ہوتا۔
عملی سطح پر یہ چندہ مختلف مدّات میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک حصہ انتظامی اخراجات کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے، جس میں تکافل آپریٹر کی خدمات، نیٹ ورک، اور دیگر عملی انتظامات شامل ہوتے ہیں۔ ایک حصہ کلیمز کی ادائیگی کے لیے محفوظ رکھا جاتا ہے، تاکہ اگر کسی شریک کو نقصان پہنچے تو اس کی تلافی وقف فنڈ سے کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک حصہ مستقبل کے ممکنہ نقصانات کے لیے احتیاطی ذخائر کی صورت میں رکھا جاتا ہے، تاکہ فنڈ کی پائیداری برقرار رہے۔
اسی دوران وقف فنڈ میں جمع شدہ رقوم کو غیر فعال نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ انہیں نفع بخش سرگرمیوں میں لگانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ مرَوَّجہ ماڈل میں اس سرمایہ کاری کو عموماً مضاربہ کے اصول کے تحت منظم کیا جاتا ہے، جہاں وقف فنڈ رب المال اور تکافل آپریٹر مضارب کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع دوبارہ وقف فنڈ میں شامل ہو جاتا ہے، اور یوں فنڈ کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس منافع کا استعمال بھی کلیمز، انتظام، اور احتیاطی ذخائر کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مرَوَّجہ تکافل میں کلیمز کی ادائیگی کو کسی فرد کے ذاتی حق کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی جب کسی شریک کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ نہیں کہا جاتا کہ اس نے اپنی رقم کے بدلے ایک متعین فائدہ خریدا تھا، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ وقف فنڈ نے اجتماعی تعاون کے اصول پر اس کی مدد کی ہے۔ اسی تصور کے ذریعے مرَوَّجہ تکافل خود کو روایتی انشورنس سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ پوری عملی ترتیب بظاہر ایک مربوط نظام کی صورت میں سامنے آتی ہے، جہاں چندہ، کلیمز، سرمایہ کاری، اور انتظام سب ایک ہی وقف فنڈ کے گرد گردش کرتے ہیں۔ اس مرحلے پر مرَوَّجہ اسلامی تکافل ایک مکمل ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو اپنی داخلی منطق کے مطابق خود کو شرعی، اخلاقی، اور سماجی طور پر قابلِ قبول ظاہر کرتا ہے۔
:ہماری دیگر اسلامی تحریروں سے استفادہ کے لیے درج ذیل لنکس ملاحظہ فرمائیں
:مزید مطالعے کے لیے📌
🔗 https://economiclens.org/time-value-of-money-and-true-nature-of-riba-al-nasiah/
🔗 https://economiclens.org/bai-salam-aur-waqt-ki-qeemat-e-zar-aik-bunyadi-mughalta/
🔗 https://economiclens.org/banking-murabaha-aur-waqt-ki-qeemat-e-zar-aik-tanqeedi-jaiza/
🔗 https://economiclens.org/pakistan-mein-zakat-ke-zariye-ghurbat-khatma/
🔗 https://economiclens.org/mudarabah-ki-khilaf-warziyan
اختتامی تجزیہ اور اگلے مرحلے کی تمہید
یہاں تک کی گفتگو میں مرَوَّجہ اسلامی تکافل کو اس کے اپنے دعووں اور بیانیے کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ اس پورے حصے کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اسلامی تصورِ تکافل کی قرآنی اور فقہی بنیادوں سے نکل کر جدید دور میں ایک باقاعدہ تکافل نظام کیسے تشکیل دیا گیا، اور وقف فنڈ کو اس نظام کی بنیاد کیوں بنایا گیا۔ اس مرحلے پر نہ اس نظام کی نیت زیرِ بحث ہے اور نہ اس کے نتائج پر کوئی حکم لگایا گیا ہے۔
اس پورے بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مرَوَّجہ اسلامی تکافل ایک سادہ فلاحی ڈھانچہ نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ ادارہ جاتی نظام ہے، جس میں فقہی اصطلاحات، قانونی ساخت، اور جدید مالیاتی انتظام ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی پیچیدگی آگے چل کر کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے، جن کا تعلق نیت سے زیادہ ساخت، اثرات، اور عملی نتائج سے ہے۔
اب اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مرَوَّجہ تکافل، اپنی تمام تر فقہی تشکیل کے باوجود، اسلامی تصورِ تکافل کی اصل روح یعنی خالص اجتماعی کفالت، ذمہ داری کی مساوی تقسیم، اور نفع و خطرے کے باہمی ربط کو برقرار رکھ پاتا ہے یا نہیں۔ یہی وہ سوال ہے جو اگلے مرحلے، یعنی حصہ دوم میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا، جہاں مرَوَّجہ اسلامی تکافل کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جائے گا، اور یہ دیکھا جائے گا کہ بیان کردہ ساخت اور عملی حقیقت کے درمیان کہاں اور کیسے فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔




1 thought on “اسلامی تصورِ تکافل اور وقف فنڈ: فقہی و سماجی بنیاد”
100% right