اسلامی بینکاری میں مضاربہ کی خلاف ورزیاں : ایک سنجیدہ فقہی و معاشی تجزیہ

Violations of Mudarabah in Islamic banking illustrated through a cracked Mudarabah contract, falling financial chart, broken pen, handcuffs, and an Islamic bank symbolizing juristic and economic failure.

کیا اسلامی بینکاری واقعی سود سے پاک ہے؟ مضاربہ کی خلاف ورزیاں آج مسلم معاشروں میں محض ایک فقہی اختلاف نہیں ہیں۔ بلکہ یہ سوال اب ایک سنجیدہ معاشی اور اخلاقی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اسلامی بینکاری کو عموماً روایتی سودی نظام کے مقابل ایک محفوظ، شرعی، اور اخلاقی متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی بنا پر عام مسلمان یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ بینک کے نام کے ساتھ “اسلامی” کا لاحقہ لگا ہوا ہے، اس لیے وہاں ہونے والے تمام مالی معاملات خود بخود شریعت کے مطابق ہوں گے۔

تاہم اصولِ فقہ کا ایک مسلمہ قاعدہ یہ واضح کرتا ہے کہ العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔ یعنی معاملات میں اصل اعتبار نام اور ظاہری ساخت کا نہیں بلکہ حقیقت اور نتیجے کا ہوتا ہے۔ اسی لیے فقہائے اسلام نے ہر دور میں یہ اصول بیان کیا ہے کہ اگر کسی عقد کی صورت اسلامی ہو مگر اس کے اثرات سودی ہوں تو وہ عقد شرعاً معتبر نہیں رہتا۔ چنانچہ موجودہ اسلامی بینکاری میں جہاں مضاربہ اور مشارکہ کے نام پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، وہاں عملی سطح پر رسک شیئرنگ کے بجائے سرمایہ کے تحفظ اور آمدن کی پیشگی ہمواری کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً شراکت کا تصور کمزور اور قرضی منطق مضبوط ہو جاتی ہے، جس کی تفصیل یہاں دیکھی جا سکتی ہے

(https://economiclens.org/interest-free-in-name-or-in-practice-the-reality-of-islamic-banking/)

اسلامی بینکاری میں مضاربہ کی خلاف ورزیاں اور تجارت و سود کا فرق

اسلامی معاشی فکر کی بنیاد تجارت اور سود کے واضح امتیاز پر قائم ہے۔ قرآن مجید نے اس فرق کو قطعی انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (البقرہ: 275)۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تجارت میں محنت، غیر یقینی، اور نقصان کا حقیقی امکان شامل ہوتا ہے۔ تاجر نفع کی ضمانت کے بغیر کاروبار کرتا ہے اور اس کی آمدن ہمیشہ نتائج سے مشروط رہتی ہے۔

اس کے برعکس سود میں نفع پہلے سے متعین اور وقت سے مشروط ہوتا ہے۔ یہاں خطرہ ایک فریق پر منتقل کر دیا جاتا ہے جبکہ دوسرا فریق خود کو نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اسی عدم توازن کو فقہائے اسلام نے سود کی حرمت کی بنیادی علت قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن مجید فرماتا ہے لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَن تَكُونَ تِجَارَةً عَن تَرَاضٍ (النساء: 29)۔ فقہی اعتبار سے تراضی کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق نتائج اور خطرے میں حقیقی طور پر شریک ہوں، محض رسمی رضامندی کافی نہیں۔ چنانچہ جب اسلامی بینکاری کے معاہدات میں خطرے کا عنصر ختم ہو جاتا ہے تو تجارت کی حقیقت باقی نہیں رہتی

(https://quran.com/2/275) (https://quran.com/4/29)

محنت و ضمان کا فقہی اصول

اسلامی فقہ میں مضاربہ ایک حقیقی شراکتی معاہدہ ہے جس میں سرمایہ اور محنت دونوں لازم عناصر ہیں۔ رب المال سرمایہ فراہم کرتا ہے جبکہ مضارب اپنی محنت، مہارت، وقت، اور انتظامی صلاحیت کاروبار میں لگاتا ہے۔ نفع باہمی رضامندی سے طے شدہ تناسب کے مطابق تقسیم ہوتا ہے، جبکہ نقصان اصولاً رب المال برداشت کرتا ہے، بشرطیکہ مضارب کی کوتاہی ثابت نہ ہو۔

اسی تناظر میں نبی ﷺ کا اصول الخراج بالضمان بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ فقہاء نے اس سے یہ قاعدہ اخذ کیا کہ نفع اسی فریق کا حق ہے جو نقصان برداشت کرنے کی ذمہ داری قبول کرے۔ لہٰذا نفع اور ضمان کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی فریق نقصان سے محفوظ رہے اور اس کے باوجود نفع حاصل کرے تو وہ نفع شرعاً معتبر نہیں رہتا۔ موجودہ اسلامی بینکاری میں یہی اصول سب سے زیادہ نظر انداز ہوتا ہے، کیونکہ بینک انتظامی فیس، کمیشن، اور دیگر کٹوتیاں وصول کرتا ہے۔ نتیجتاً مضاربہ اپنی شراکتی حیثیت کھو دیتا ہے اور مضاربہ کی خلاف ورزیاں ایک نظامی مسئلہ بن جاتی ہیں (https://economiclens.org/mudarabah-in-name-or-in-practice-the-reality-of-islamic-banks/)

مضاربہ کی خلاف ورزیاں، محدود ذمہ داری، اور فقہی تضاد

فقہِ اسلامی میں ذمہ داری کا تعین عقد کی حقیقت سے ہوتا ہے، نہ کہ محض قانونی یا اعتباری شخصیت سے۔ مضاربہ میں نفع کی بنیاد ہی اس اصول پر قائم ہے کہ فریق نقصان کے احتمال کو قبول کرے۔ تاہم موجودہ اسلامی بینکاری میں بینک خود کو مضارب ظاہر کرتا ہے، لیکن محدود ذمہ داری کے اصول کے تحت عملاً نقصان سے محفوظ رہتا ہے۔

چنانچہ ایک سنگین فقہی تضاد پیدا ہوتا ہے۔ اگر بینک واقعی مضارب ہے تو اسے نقصان کا احتمال قبول کرنا ہوگا، اور اگر وہ نقصان سے محفوظ ہے تو پھر وہ مضارب نہیں بلکہ قرض دینے والے کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ یہی بینک جمع کنندگان کے ساتھ خود کو مضارب ظاہر کرتا ہے اور آگے سرمایہ دیتے وقت خود کو رب المال بنا لیتا ہے۔ فقہ اسلامی میں ایک ہی عقد میں متضاد حیثیتیں جمع کرنا جائز نہیں۔ نتیجتاً شراکت کی روح ختم ہو جاتی ہے اور مضاربہ کی خلاف ورزیاں محض انفرادی نہیں بلکہ ساختی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔

اسلامی بینک بطور سلیپنگ مضارب

اسلامی فقہ میں مضارب کے لیے فعال شرکت بنیادی شرط ہے۔ مضارب کا کردار صرف سرمایہ منتقل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کی محنت، تدبیر، اور خطرے میں شمولیت ہی نفع کا جواز بنتی ہے۔ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ نفع بغیر عمل اور بغیر خطرے کے حلال نہیں ہو سکتا۔

ااس کے برخلاف موجودہ اسلامی بینکاری میں اسلامی بینک عام طور پر جمع کنندگان سے رقم لے کر اسے تیسرے فریق کو منتقل کر دیتا ہے۔ اصل کاروبار، محنت، اور رسک اس تیسرے فریق کے ذمے ہوتا ہے، جبکہ بینک خود صفر رسک کے ساتھ نفع وصول کرتا ہے۔ یہی صورت فقہی اصطلاح میں سلیپنگ مضارب کہلاتی ہے۔ فقہی قاعدہ الغنم بالغرم بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ جہاں غرم نہ ہو وہاں غنم بھی جائز نہیں۔ لہٰذا صفر رسک کے ساتھ نفع لینا واضح طور پر مضاربہ کی خلاف ورزیاں میں شمار ہوتا ہے۔۔

ریاستی ضابطہ کاری، اور نظامی دباؤ

اسلامی بینکاری جدید ریاستی مالیاتی نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ اسی لیے اس پر وہی ریگولیٹری تقاضے لاگو ہوتے ہیں جو روایتی بینکوں پر نافذ ہیں۔ ان میں لازمی ذخائر، لیکویڈیٹی شرائط، اور مرکزی مالیاتی نظام سے وابستگی شامل ہے۔

نتیجتاً اسلامی بینک اپنی جمع شدہ رقوم کا ایک بڑا حصہ ایسے ڈھانچوں میں رکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو سودی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ فقہی اعتبار سے مسئلہ صرف براہ راست سود لینے کا نہیں بلکہ سودی نظام کے استحکام میں کردار ادا کرنے کا بھی ہے۔ فقہائے مقاصد کے مطابق اگر کسی عمل کا نتیجہ حرام نظام کے فروغ پر منتج ہو تو وہ عمل بذاتِ خود مشکوک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اضطرار کی بنیاد پر دی گئی وقتی گنجائش کو مستقل نظام نہیں بنایا جا سکتا، اور یہی دباؤ مضاربہ کی خلاف ورزیاں کو تقویت دیتا ہے۔

فیس، جرمانے، اور نفع کی ہمواری

اسلامی فقہ میں مالی سزا کا تصور عمومی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ کم بیلنس رکھنا کوئی جرم نہیں، لہٰذا اس پر نفع روک لینا یا جرمانہ عائد کرنا فقہی عدل کے خلاف ہے۔ اس کے باوجود موجودہ اسلامی بینکاری میں یہی طرزِ عمل عام ہے۔

اسی طرح انتظامی اخراجات، تنخواہیں، اور کمیشن مضاربہ فنڈ سے منہا کیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً رب المال کے حصے میں براہ راست کمی واقع ہوتی ہے۔ فقہی اصول کے مطابق اگر مضارب کو زیادہ معاوضہ دینا مقصود ہو تو وہ صرف نفع کے تناسب میں اضافے کے ذریعے ممکن ہے، نہ کہ مقررہ فیس کے ذریعے۔ لہٰذا فیس اور جرمانوں کا موجودہ طریقہ کار مضاربہ کی روح کے منافی ہے اور مضاربہ کی خلاف ورزیاں پیدا کرتا ہے۔

یومیہ نفع کا فقہی مسئلہ

فقہ اسلامی میں عقد کی صحت کے لیے تعیین بنیادی شرط ہے۔ سرمایہ کی مقدار، مدت، اور استعمال واضح ہونا لازم ہے۔ تاہم موجودہ اسلامی بینکاری میں مضاربہ فنڈ مسلسل جمع اور نکاسی کی وجہ سے غیر مستقر رہتا ہے۔

ہر نئی رقم ایک نیا سرمایہ بن جاتی ہے مگر عقد کی تجدید نہیں کی جاتی۔ اس کے باوجود انہی رقوم پر یومیہ نفع دیا جاتا ہے۔ فقہی طور پر نفع کاروبار کے اختتام پر معلوم ہوتا ہے، نہ کہ روزانہ۔ چنانچہ یومیہ نفع اس بات کی علامت بن جاتا ہے کہ نفع حقیقی کاروباری نتائج کے بجائے وقت اور حسابی فارمولوں سے جڑا ہوا ہے۔ نتیجتاً مضاربہ وقت سے مشروط آمدن میں بدل جاتا ہے اور مضاربہ کی خلاف ورزیاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔

حقیقی تجارت کا فقدان

اسلامی معاشی فکر میں اصل مقصد حقیقی تجارت، پیداوار، اور معاشی انصاف ہے۔ شریعت کا اصول یہ ہے کہ پیسہ خود پیسہ پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے حقیقی تجارتی سرگرمی میں لگانا ضروری ہوتا ہے۔

موجودہ اسلامی بینکاری میں عملی طور پر بینک خود کسی حقیقی تجارت میں شریک نہیں ہوتے۔ وہ صرف مالی ثالث کا کردار ادا کرتے ہیں اور کاغذی معاہدات کے ذریعے رقوم کی گردش کرتے ہیں۔ نتیجتاً نہ حقیقی محنت شامل ہوتی ہے اور نہ ہی حقیقی رسک۔ جب کوئی نظام حقیقی تجارت سے کٹ جائے تو وہ مقاصدِ شریعت سے انحراف کرتا ہے، اور یہی کیفیت مضاربہ کی خلاف ورزیاں کو واضح کر دیتی ہے۔

حتمی فقہی نتیجہ

تمام فقہی اصولوں اور عملی مشاہدات کو یکجا کرنے کے بعد نتیجہ واضح ہو جاتا ہے۔ موجودہ اسلامی بینکاری میں مضاربہ اور مشارکہ اپنی اصل شرعی بنیادوں پر پورا نہیں اترتے۔ نفع کو محفوظ اور نقصان کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے، جبکہ حقیقی رسک اور محنت عملی طور پر غائب ہیں۔

لہٰذا فقہی معیار پر یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ اسلامی بینکاری میں مضاربہ کی خلاف ورزیاں محض جزوی یا انفرادی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کی ہیں۔ یہ نظام نام میں اسلامی ہے، مگر حقیقت میں سودی منطق کے بہت قریب دکھائی دیتا ہے۔

1 thought on “اسلامی بینکاری میں مضاربہ کی خلاف ورزیاں : ایک سنجیدہ فقہی و معاشی تجزیہ”

  1. I have been exploring for a little for any high-quality articles or blog posts on this kind of area . Exploring in Yahoo I ultimately stumbled upon this web site. Studying this information So i am satisfied to exhibit that I’ve an incredibly just right uncanny feeling I came upon just what I needed. I such a lot without a doubt will make certain to don¦t fail to remember this website and give it a glance on a constant basis.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top