پاکستان میں زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ: فقہی بنیاد اور ضلعی پالیسی ماڈل

Zakat-based poverty eradication model in Pakistan showing institutional zakat collection, skills development, employment creation, and social welfare outcomes.

پاکستان میں زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ماڈل

یہ پاکستان میں زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ماڈل قرآن پر مبنی اور فقہی اصولوں سے مستنبط ایک جامع فریم ورک پیش کرتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت زکوٰۃ کو روزگار کی فراہمی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، ملکیت کی منتقلی اور بیت المال کے مؤثر نظم و نسق کے ذریعے غربت سے مستقل اخراج کے راستے پر لگایا جاتا ہے۔ اس پورے فریم ورک کا بنیادی مقصد زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کو ایک پائیدار معاشی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنا ہے، نہ کہ محض وقتی امداد تک محدود رہنا۔ مزید یہ کہ یہ تجزیہ ساختی معاشی تبدیلی اور ادارہ جاتی حکمرانی کو مرکزی نکتہ بناتا ہے۔

اس مضمون کا انگریزی میں تفصیلی مطالعہ اور عملی فریم ورک سمجھنے کے لیے دیکھیں: https://economiclens.org/poverty-eradication-model-in-pakistan/

فقہی بنیاد: چاروں مکاتبِ فکر میں غربت سے مستقل اخراج کا اصول

یہ بات ابتدا ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کا یہ ماڈل جدید تعبیرات یا بیرونی ترقیاتی نظریات پر انحصار نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، یہ چاروں سنی فقہی مکاتبِ فکر کی کلاسیکی فقہ سے براہ راست رہنمائی لیتا ہے۔ فقہی ذخیرے کے باریک مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی فقہاء ایک ایسے اصول پر متفق ہیں جس کا عملی حاصل زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ہی ہے۔ زکوٰۃ کو محض قلیل مدتی کفالت تک محدود نہیں کیا جاتا، جب طویل مدتی کفایت اور خود انحصاری ممکن ہو۔

حنفی روایت میں فقہاء مسلسل اس امر پر زور دیتے ہیں کہ زکوٰۃ ایسی صورت میں بھی دی جا سکتی ہے جو غربت کو مستقل طور پر ختم کر دے۔ امام ابو یوسف نے کتاب الخراج میں صراحت کی کہ محتاج کو اتنے وسائل دیے جا سکتے ہیں جو اسے خود کفالت کے درجے تک پہنچا دیں۔ یہ منطق دراصل زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کو مقدار کے بجائے نتیجے کے ساتھ جوڑتی ہے، جہاں کامیابی کا معیار پائیدار خود انحصاری ہے۔

مالکی فقہاء بھی اسی اصول کو آگے بڑھاتے ہیں۔ امام قرافی الذخیرہ میں بیان کرتے ہیں کہ زکوٰۃ کا مقصد اغناء ہے، یعنی محتاجی سے نجات۔ اس تناظر میں سرمایہ، آلات یا پیداواری ذرائع کی فراہمی فقہی طور پر درست قرار پاتی ہے، کیونکہ اس کا منطقی انجام زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ شافعی مکتبِ فکر میں امام نووی بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں اور تجارت یا پیشہ قائم کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں تاکہ مستقل آمدن پیدا ہو سکے۔

حنبلی مکتبِ فکر اس فقہی ہم آہنگی کو مکمل کرتا ہے۔ ابن قدامہ المغنی میں ایسے آلات اور اثاثوں کی فراہمی کی اجازت دیتے ہیں جو مستحق کو خود مختار آمدن کے قابل بنا دیں۔ یوں چاروں مکاتب میں زکوٰۃ کو اس کی حقیقی صلاحیت یعنی زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے، نہ کہ محض ظاہری تقسیم کی بنیاد پر۔

پیداواری زکوٰۃ، تملیک اور مستقل اخراج: فقہی اعتراض کا جواب

پیداواری زکوٰۃ پر سب سے معروف اعتراض تملیک سے متعلق ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تملیک کی شرط زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتی ہے۔ جب پیداواری اثاثے یا کاروبار کی مکمل ملکیت مستحق کو منتقل ہوتی ہے تو وہ وقتی امداد کے بجائے مستقل معاشی حیثیت حاصل کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو زکوٰۃ کو بار بار کی محتاجی سے نکال کر مستقل اخراج کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔

پاکستان کا زکوٰۃ نظام: امداد پر مبنی تقسیم کی ساختی حدود

پاکستان میں ریاستی سطح پر کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ نجی عطیات کا بھی بڑا نیٹ ورک موجود ہے، اس لیے یہ زکوٰۃ جمع کرنے کے وسیع نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود کئی اضلاع میں غربت بدستور گہرائی سے جمی ہوئی ہے۔ یہ تسلسل ایک ساختی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ مسئلہ اکثر وسائل کی کمی نہیں، بلکہ وسائل کے استعمال کے طریقۂ کار میں پوشیدہ ہے۔

عملاً حکام زکوٰۃ فنڈز کو زیادہ تر نقد وظائف، طبی امداد، تعلیمی معاونت اور شادی گرانٹس کی صورت میں تقسیم کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ اقدامات فوری مشکلات میں کمی لاتے ہیں، لیکن یہ شاذ و نادر ہی اس امر کو تبدیل کرتے ہیں کہ مستحق گھرانے کس طرح آمدن حاصل کرتے ہیں، منڈیوں میں حصہ لیتے ہیں، یا آئندہ معاشی جھٹکوں کے مقابلے میں خود کو مضبوط بناتے ہیں۔ عالمی ادارہ جاتی مباحث بھی یہی دکھاتے ہیں کہ محض منتقلیوں پر مبنی فلاحی نظام غربت کی شدت کم تو کر دیتے ہیں، مگر اکثر ساختی سطح پر خاتمہ نہیں کر پاتے، خصوصاً وہاں جہاں محنت کی منڈیاں غیر رسمی ہوں اور قرض تک رسائی محدود رہے۔ (حوالہ: World Bank, Poverty)
https://www.worldbank.org/en/topic/poverty

اسی تناظر میں اگر آپ عصری اسلامی مالیات کی “ظاہری مطابقت” اور “عملی کمزوری” کا فرق سمجھنا چاہیں تو یہ متعلقہ مطالعہ ملاحظہ ہو:
https://economiclens.org/interest-free-in-name-or-in-practice-the-reality-of-islamic-banking/

اب سوال یہ نہیں رہتا کہ زکوٰۃ تقسیم کی جائے یا نہیں، بلکہ فیصلہ کن سوال یہ بنتا ہے کہ زکوٰۃ کو کس منطق کے تحت استعمال کیا جائے تاکہ “اہلیت کی فہرست” خود سکڑتی جائے۔

ضلعی سطح پراطلاق: زکوٰۃ کو ترقیاتی سرمایہ بنانے کا طریقہ

اب اس ماڈل کی عملی سمت واضح کی جائے۔ اصولی تصورات کو قابلِ نفاذ بنانے کے لیے زکوٰۃ پر مبنی غربت خاتمہ ماڈل اس سطح پر نافذ ہونا چاہیے جہاں ڈیٹا، نگرانی اور مقامی ضروریات کے درمیان مؤثر ہم آہنگی قائم ہو سکے۔ ضلعی سطح یہ صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا کے کسی ضلع، جیسے ضلع دیر لوئر، میں غیر رسمی روزگار غالب ہوتا ہے اور چھوٹے پیمانے کی خدمات و ہنرمندی مقامی معیشت کا اہم حصہ ہوتی ہے۔

فرض کریں تقریباً پانچ لاکھ افراد زکوٰۃ کے لیے اہل ہیں، جبکہ دس ہزار گھرانے سالانہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ اگر فی ادا کنندہ اوسط زکوٰۃ ایک لاکھ روپے ہو تو ضلعی سطح پر مجموعی حجم سالانہ ایک ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ یہاں حکمتِ عملی کا بنیادی سوال بدل جاتا ہے۔ پالیسی سازوں کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ رقم کو کس قدر “برابر” تقسیم کیا جائے، بلکہ انہیں یہ طے کرنا چاہیے کہ اسے کس طرح “پیداواری” انداز میں استعمال کیا جائے تاکہ وقت کے ساتھ زکوٰۃ کی اہلیت ہی کم ہوتی جائے۔

زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ کا عملی نفاذ: پانچ نکاتی میکانزم

پہلا: اہلیت اور مہارت کی نقشہ بندی
دوسرا: اثاثہ یا سرمایہ کی تملیک (ملکیت مستحق کو منتقل)
تیسرا: مارکیٹ لنکیج اور بنیادی رہنمائی (سپلائر، قیمت، کھاتہ داری)
چوتھا: نگرانی بطور سرپرستی ماڈل
پانچواں: تکمیلِ اہلیت اور مرحلہ وار اخراج واضح معیار کے ساتھ

مصارفِ زکوٰۃ کی نقشہ بندی: مہارت، صلاحیت اور مقامی طلب

اس مرحلے میں یہ فرض نہیں کیا جاتا کہ غریب کیا کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے۔ اسی لیے اس ماڈل کا آغاز مصارفِ زکوٰۃ کی “ڈیٹا پر مبنی نقشہ بندی” سے ہوتا ہے۔ یہ نقشہ بندی محض آمدن کی حد یا گھرانے کے حجم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ مہارت، جسمانی صلاحیت، سیکھنے کی استعداد، صنفی امکانات اور مقامی معاشی طلب کے ساتھ ہم آہنگی پر مبنی ہوتی ہے۔ اس معلومات کے بغیر زکوٰۃ کی تقسیم پیداواری صلاحیت کو نظرانداز کرتی ہے اور غیر مؤثریت بڑھا دیتی ہے۔

بہت سے اضلاع میں قابلِ استعمال مہارتیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں، مگر سرمایہ، آلات یا منڈی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مہارتیں غیر فعال رہتی ہیں۔ بڑھئی، مستری، حجام، درزی، مکینک، ڈرائیور، موچی اور غیر رسمی خدمات فراہم کرنے والے افراد غریب گھرانوں میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ان کی غربت اکثر کام کرنے کی صلاحیت کی کمی سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ غیر مستحکم آمدن اور وسائل کی عدم دستیابی سے جنم لیتی ہے۔ لہٰذا نقشہ بندی انتظامیہ کو یہ خلا واضح طور پر دکھا دیتی ہے۔

اسی کے ساتھ یہ ماڈل “مہارت کے وجود” اور “مہارت کی صلاحیت” میں فرق قائم کرتا ہے۔ جن افراد کے پاس فوری مہارت موجود نہ ہو، انہیں خارج نہیں کیا جاتا۔ اس کے بجائے انہیں ضلعی طلب سے ہم آہنگ تربیتی راستے میں شامل کیا جاتا ہے۔ پھر زکوٰۃ اس تعلیمی عرصے کے دوران بنیادی کفالت فراہم کرتی ہے تاکہ گھرانہ تربیت کے ساتھ ساتھ ضروریات بھی پوری کر سکے۔

صنفی حساس نقشہ بندی یہاں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ خواتین کی شمولیت محفوظ، گھریلو یا کمیونٹی پر مبنی معاشی سرگرمیوں کے ذریعے منظم کی جاتی ہے، تاکہ سماجی اقدار کا احترام بھی برقرار رہے اور آمدن کے مواقع بھی پیدا ہوں۔ چنانچہ درزی کاری، کڑھائی، دستکاری، خوراک کی تیاری، تدریس اور خدماتی کام فطری طور پر سامنے آتے ہیں۔

پیداواری زکوٰۃ بطور روزگار اور کاروباری پالیسی

نقشہ بندی مکمل ہوتے ہی یہ ماڈل ایک ہدفی روزگار اور کاروباری پالیسی میں ڈھل جاتا ہے۔ ان اضلاع میں جہاں رسمی روزگار کے مواقع محدود ہوں، مائیکرو اور چھوٹے کاروبار آمدن کے استحکام کا قابلِ اعتماد راستہ فراہم کرتے ہیں۔ بین الاقوامی شواہد بھی بتاتے ہیں کہ کم آمدنی اور ترقی پذیر معیشتوں میں روزگار کا بڑا حصہ چھوٹے کاروبار جذب کرتے ہیں۔ (حوالہ: ILO, Small enterprises and employment)
https://www.ilo.org/global/topics/employment-promotion/small-enterprises/lang–en/index.htm

یہ طریقہ کار اس طرزِ فکر سے مختلف ہے جہاں ادارے سرمائے کا تحفظ کرتے ہیں اور محنت کو رسک برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ عصری اسلامی بینکاری میں مضاربہ کے عملی تضادات کا مطالعہ کرنا چاہیں تو یہ ربط دیکھیں:
https://economiclens.org/mudarabah-in-name-or-in-practice-the-reality-of-islamic-banks/

اس ماڈل کے تحت روزگار دو طریقوں سے بنتا ہے۔ اول، افراد کو موجودہ خدماتی یا پیداواری ماحول میں براہِ راست شامل کیا جاتا ہے جہاں سیکھنے اور کمانے کا عمل ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ دوم، وہاں کاروبار قائم کیے جاتے ہیں جہاں ایسے ماحول پہلے سے موجود نہ ہوں۔ تاہم ہر صورت میں پائیداری کو ترجیح دی جاتی ہے، صرف رفتار کو نہیں۔ مقصد وقتی آمدن نہیں، بلکہ مستقل کمائی کی صلاحیت ہے۔

زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ماڈل میں ملکیت کی منتقلی: ایس ایم ایز اور مائیکرو کاروبار کا فقہی و عملی ڈیزائن

اس ماڈل کی مؤثریت اس بات پر منحصر ہے کہ ادارے پیداواری اکائیوں کو کیسے ڈیزائن کرتے ہیں اور ملکیت کو کیسے منتقل کرتے ہیں۔ چھوٹے اور مائیکرو کاروبار مرکزی کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ کم سرمایہ مانگتے ہیں، مقامی مہارتوں سے جڑتے ہیں اور پیچیدہ انفراسٹرکچر کے بغیر نسبتاً تیزی سے آمدن پیدا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مقامی کھپت کے انداز کے مطابق کاروبار بقا میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

یہاں ملکیت کی منتقلی فیصلہ کن اصول ہے۔ زکوٰۃ کے وسائل سے کاروبار قائم کیا جاتا ہے، آلات یا ابتدائی اسٹاک مہیا کیا جاتا ہے، پھر مکمل قانونی اور معاشی ملکیت مستحق کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس طرح تملیک کی شرط بھی پوری ہوتی ہے اور ذمہ داری بھی واضح ہوتی ہے۔ نتیجتاً مستفید فرد نگران نہیں رہتا بلکہ مالک بن جاتا ہے، اس لیے وہ محنت، نظم اور جدت میں اضافہ کرتا ہے۔

زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ماڈل: نگرانی اور تکمیلِ اہلیت کی پانچ سالہ حکمتِ عملی کی ریڑھ کی ہڈی

بعض لوگ نگرانی کو محض کنٹرول سمجھتے ہیں، حالانکہ اس ماڈل میں نگرانی کا مقصد عبوری مرحلے کے دوران وسائل اور مستفیدین دونوں کا تحفظ ہے۔ ابتدائی مرحلے کے کاروبار عام طور پر نقدی کے بہاؤ، ذخیرے کے نظم، قیمت کے تعین اور منڈی تک رسائی جیسے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اگر رہنمائی نہ ملے تو قابلِ عمل ذریعۂ معاش بھی ناکام ہو سکتا ہے۔ اسی لیے نگرانی کی ٹیمیں معائنہ کار نہیں بلکہ سرپرست کے طور پر کام کرتی ہیں۔ وہ خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں اور اصلاحی معاونت دیتی ہیں۔

اس کے ساتھ “تکمیلِ اہلیت” یعنی graduation اس نظام کا دوسرا ستون ہے۔ پروگرام کے آغاز ہی میں واضح اخراجی معیار مقرر کیے جاتے ہیں۔ جب کوئی گھرانہ ایک متعین مدت تک زکوٰۃ کی اہلیت کی حد سے بلند اور مستحکم آمدن ثابت کر دیتا ہے تو اسے فہرست سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ انتظامیہ اس اخراج کو ناکامی نہیں، کامیابی سمجھتی ہے، کیونکہ یہی مقصد ہے۔

پانچ سالہ افق پورے عمل کو منظم کرتا ہے۔ ہر سال نیا گروہ شامل ہوتا ہے جبکہ پہلے شامل ہونے والے گروہ بتدریج خارج ہوتے جاتے ہیں۔ اس طرح نظام انحصار پیدا نہیں کرتا، بلکہ پیش رفت کو سال بہ سال مرکب بناتا ہے۔ وقت کے ساتھ مستحقین کا دائرہ سکڑتا ہے اور ادائیگی کرنے والوں کی بنیاد وسیع ہوتی جاتی ہے۔

زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ ماڈل: غیر فعال مستفیدین کے لیے مستقل کفالت اور اسلامی عدل

یہ ماڈل یہ مفروضہ قائم نہیں کرتا کہ ہر مستحق پیداواری سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔ اسلامی عدل تسلیم کرتا ہے کہ بعض افراد مستقل حدود کا سامنا کرتے ہیں۔ بزرگ، شدید معذوری کے شکار، دائمی مریض اور ناقابلِ واپسی جسمانی یا ذہنی مسائل رکھنے والے افراد اسی زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے زکوٰۃ محض ترقیاتی آلہ نہیں، بلکہ یقینی حق ہے۔

لہٰذا انتظامیہ غیر فعال مستفیدین کے لیے زکوٰۃ کو عبوری مدد کے بجائے مستقل کفالت کی صورت میں منظم کرتی ہے، جیسے ماہانہ راشن، طبی سہولتیں، رہائشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی۔ تاہم یہ معاونت باضابطہ بیت المال کے نظام کے ذریعے واضح ریکارڈ اور وقتاً فوقتاً اہلیت کے جائزوں کے ساتھ فراہم ہونی چاہیے تاکہ احتساب قائم رہے اور بدنامی سے بچاؤ ہو۔

District-level zakat-based poverty eradication model in Pakistan showing zakat payers, annual zakat pool, beneficiary targeting, productive allocation, and institutional monitoring framework
District-level structure of the Zakat-Based Poverty Eradication Model, outlining zakat collection capacity, beneficiary targeting, productive allocation, ownership transfer, and supervision mechanisms.

تفصیل جدول:

اس ماڈل کے تحت ادارے زکوٰۃ فنڈز کو مقامی ترقیاتی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ انتظامیہ وسائل کا ایک بڑا حصہ بار بار دی جانے والی امداد کے بجائے پیداواری انضمام پر صرف کرتی ہے۔ وہ گھرانے جن کے پاس پہلے سے ہنر موجود ہوں، انہیں کاروباری ملکیت یا خدمات کی فراہمی کے ذریعے آمدن کو مستحکم اور وسعت دینے کے لیے ہدفی معاونت دی جاتی ہے۔ جن گھرانوں کے پاس فوری طور پر قابلِ فروخت ہنر موجود نہ ہو، انہیں مقامی طلب سے ہم آہنگ تربیتی اور شاگردی کے منظم راستوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ اس عبوری مرحلے کو مالی سہارا فراہم کرتی ہے، مستقل انحصار کو نہیں۔

یہ ماڈل پانچ سالہ مدت میں مختلف گروہوں کی صورت میں کام کرتا ہے۔ ہر سال مستحقین کے ایک متعین حصے کو ہدف بنایا جاتا ہے، جس میں ترجیح ان گھرانوں کو دی جاتی ہے جو پیداواری شمولیت کے قریب تر ہوں۔ جب کوئی گھرانہ مستحکم آمدن حاصل کر لیتا ہے تو وہ زکوٰۃ کے مستحقین کی فہرست سے خارج ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ اس اخراج کو باقاعدہ ریکارڈ، نگرانی اور درجہ بندی کے ذریعے پروگرام کی کامیابی کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔

Five-year graduation projection of Pakistan’s zakat-based poverty eradication model showing annual productive graduation and reduction in zakat-eligible population.
A five-year projection illustrating how consistent productive zakat graduation reduces the zakat-eligible population from 100,000 to 20,000 through structured economic empowerment

یوں مستحقین کی آبادی کو بتدریج تقسیم کر کے ضلع زکوٰۃ کو ایک قطار کے بجائے ایک منظم پائپ لائن میں تبدیل کر دیتا ہے۔ غربت کسی اور جگہ منتقل نہیں ہوتی، بلکہ ہر مرحلے پر ایک گروہ کے خاتمے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے، حتیٰ کہ ساختی محرومی نمایاں طور پر کم ہو جائے۔

Annual outputs of Pakistan’s zakat-based poverty eradication model showing micro-business creation, skills training, job generation, zakat exits, and local economic impacts
Annual outputs and economic effects of the Zakat-Based Poverty Eradication Model, linking skills development, job creation, zakat exits, income stability, and local economic growth.

تفصیل جدول:

جدول 3 ضلعی سطح پر زکوٰۃ پر مبنی غربت کے خاتمے کے ماڈل کی اصل روح کو واضح کرتا ہے۔ اس جدول میں غربت کے خاتمے کو کسی غیر واضح یا طویل المدت وعدے کے بجائے ایک قابلِ منصوبہ، قابلِ ناپ تول اور وقت کے ساتھ محدود عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ہر سال ایک مقررہ تعداد میں مستحقین کو ہدف بنایا جاتا ہے اور وہی تعداد اسی سال زکوٰۃ کی اہلیت سے خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح زکوٰۃ کو مستقل انحصار کے بجائے عبوری سرمایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ جدول اس اصول کو بھی واضح کرتا ہے کہ سالانہ ہدف کم نہیں ہوتا۔ اس سے ادارہ جاتی رفتار، انتظامی صلاحیت اور پالیسی کی سنجیدگی برقرار رہتی ہے۔ اگر ہدف ہر سال کم کیا جائے تو نظام سست روی اور فلاحی جمود کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ مقررہ اور مسلسل ہدف زکوٰۃ کو ایک فعال اور متحرک پالیسی آلے میں تبدیل کرتا ہے۔

مزید یہ کہ جدول 3 میں مستقل کفالت کے مستحق افراد کو پیداواری گریجویشن سے الگ رکھا گیا ہے۔ یہ امتیاز اسلامی عدل کے تقاضوں کے عین مطابق ہے، کیونکہ بزرگ، معذور اور دائمی مریض افراد سے پیداواری شمولیت کی غیر حقیقی توقع نہیں رکھی جاتی۔ ان کے لیے زکوٰۃ مستقل کفالت کا ذریعہ بنتی ہے، نہ کہ وقتی پروگرام کا حصہ۔

پانچ سالہ افق میں اس جدول کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ غربت ایک جامد سماجی حقیقت نہیں رہتی۔ جب زکوٰۃ کو ضلعی سطح پر واضح اہداف، مکمل تملیک، اور بروقت اخراج کے ساتھ نافذ کیا جائے تو مستحقین کی تعداد سال بہ سال کم ہوتی جاتی ہے۔ یوں زکوٰۃ ایک قطار میں کھڑے افراد کی فہرست نہیں بنتی بلکہ ایک منظم پائپ لائن میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں ہر سال کچھ لوگ مستقل طور پر غربت سے باہر نکلتے ہیں۔

زکوٰۃ بیت المال کو کیوں دی جائے: نجی تقسیم کی حدیں

اس ماڈل کی کامیابی ادارہ جاتی دیانت اور نظم و ضبط پر قائم ہے۔ اسلامی قانون میں زکوٰۃ نجی خیرات کے انفرادی فیصلوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک عوامی فریضہ ہے جو نظمِ حکمرانی کے اندر کام کرتا ہے۔ جب زکوٰۃ ذاتی ترجیحات کے مطابق منتشر ہو جاتی ہے تو منصوبہ بندی کمزور پڑتی ہے، نگرانی ٹوٹتی ہے اور ساختی نتائج مفقود ہو جاتے ہیں۔

قرآن نے زکوٰۃ کے عاملین کو صراحت کے ساتھ تسلیم کیا ہے، اس لیے وصولی اور تقسیم ادارہ جاتی ذمہ داری ہے۔ (سورۃ التوبہ 9:60) تاریخی طور پر بھی حضرت ابو بکر صدیقؓ نے زکوٰۃ کی ریاستی حیثیت کا بھرپور دفاع کیا۔ چنانچہ بیت المال کے ذریعے مرکزی وصولی پیمانے کو ممکن بناتی ہے، مقامی انتظامیہ ہدف بندی کو یقینی بناتی ہے، ریکارڈ سازی نگرانی کو فعال کرتی ہے اور احتساب اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ اس امتزاج سے زکوٰۃ خیراتی اقدامات کے مجموعے کے بجائے ایک معاشی نظام کی صورت اختیار کرتی ہے۔

تاریخی شواہد: زکوٰۃ کے ذریعے غربت میں فیصلہ کن کمی

کچھ حلقے زکوٰۃ کے ذریعے غربت کے خاتمے کو محض تصوراتی سمجھتے ہیں، تاہم اسلامی تاریخ اس کے برعکس ٹھوس شواہد پیش کرتی ہے۔ منظم زکوٰۃ حکمرانی نے بعض ادوار میں غربت کو اس حد تک کم کیا کہ زکوٰۃ کے عاملین کو اہلِ زکوٰۃ کی تلاش میں دشواری پیش آئی۔ بالخصوص حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں مؤرخین نے زکوٰۃ کے نظم کے نمایاں سماجی نتائج بیان کیے ہیں۔ اگرچہ تفصیلات میں روایات کا فرق ہو سکتا ہے، تاہم عمومی نقشہ یہی دکھاتا ہے کہ جب حکمرانی مضبوط ہو، وصولی منظم ہو اور تقسیم مقصدیت کے ساتھ ہو تو غربت میں غیر معمولی کمی ممکن ہو جاتی ہے۔

مجموعی معاشی اثرات: یہ ماڈل صرف فلاح نہیں، معاشی پالیسی بھی ہے

اب اس ماڈل کے مجموعی معاشی اثرات کو یکجا دیکھیں۔ جب زکوٰۃ کو بار بار کی کھپت کے بجائے پیداواری انضمام کی طرف موڑا جاتا ہے تو اثرات محنت کی منڈیوں، پیداواری ڈھانچوں اور مقامی قیمتوں تک پھیلتے ہیں۔
اول، یہ ماڈل غیر مرکزی طریقوں سے روزگار بڑھاتا ہے اور محنت کو مقامی سطح پر جذب کرتا ہے۔
دوم، مقامی رسد میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے بنیادی خدمات اور کم قیمت سرگرمیوں میں قیمتوں کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔
سوم، مقامی قدر میں اضافہ اور آمدن کی گردش ضربی اثرات پیدا کرتی ہے، اس لیے مجموعی پیداوار اور فی کس آمدن بہتر ہو سکتی ہے۔
چہارم، ملکیت میں توسیع متوسط آمدنی کے طبقے کو مضبوط کرتی ہے، جس سے سماجی استحکام بڑھتا ہے اور عدم مساوات سے پیدا ہونے والا تناؤ کم ہوتا ہے۔

نتائج اور اشاریات: کامیابی کیسے ناپی جائے

آخر میں یہ ماڈل اسی وقت پالیسی بنے گا جب اس کے نتائج ناپے جا سکیں۔ مثال کے طور پر:

  • کتنے گھرانے سالانہ “تکمیلِ اہلیت” کے معیار پر پورا اتر کر فہرست سے خارج ہوئے

  • کتنے مائیکرو کاروبار فعال اور منافع بخش ہوئے

  • آمدن کی پائیداری (کم از کم 3 اور 6 ماہ کی سطح پر)

  • خواتین کی محفوظ معاشی شمولیت میں اضافہ

  • ضلعی سطح پر مستحقین کی فہرست میں کمی اور ادائیگی کرنے والوں کی بنیاد میں اضافہ

دس سالہ پالیسی مدت: غربت کے خاتمے کے بعد فلاحی توسیع

یہ ماڈل محض غربت کے خاتمے پر رک نہیں جاتا۔ دس سالہ افق میں جیسے جیسے مستحقین کی فہرستیں سکڑتی ہیں، زکوٰۃ امدادی آلے سے وسیع تر فلاحی اور ترقیاتی وسیلے میں ڈھل سکتی ہے۔ اس مرحلے پر زکوٰۃ تعلیم کے تسلسل، صحت کی سہولتوں، رہائش کی مرمت اور کمیونٹی سہولیات میں معاون بن سکتی ہے۔ اس توسیع کو مقصدِ زکوٰۃ سے انحراف نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ جب ساختی غربت کم ہو جائے تو فلاحی توسیع اسی منطق کا قدرتی نتیجہ بنتی ہے۔ بالآخر زکوٰۃ کی کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے افراد اسے وصول کرتے ہیں، بلکہ اس سے کہ کتنے افراد کو اس کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

2 thoughts on “پاکستان میں زکوٰۃ کے ذریعے غربت خاتمہ: فقہی بنیاد اور ضلعی پالیسی ماڈل”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top